سرسی:7/ ڈسمبر (ایس او نیوز/پی وی) شہر کے قاضی گلی کی سلطانیہ مسجد کی سابقہ انتظامیہ قریب 60لاکھ روپیوں کا حساب کتاب ابھی تک انتظامیہ آفیسر اور عوام کے سامنے ظاہر نہیں کئے جانےکےنتیجےمیں متعلقہ افراد کے خلاف کریمنل مقدمہ دائر کرنے کی جانکاری ملی ہے۔ ایک کنڑا اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق سابقہ مسجد انتظامیہ 2005سے ابھی تک کا حساب کتاب پیش نہ کرنے کی وجہ سے ان پر عوامی سطح پر زبردست دباؤ ڈالا گیا اور اتوار کو سی پی بازار کی مسجد میں میٹنگ طلب کرتے ہوئے سابقہ انتظامیہ کے ممبران کو میٹنگ میں حاضر ہوکر حساب کتاب دینے کی بات کہی گئی تھی لیکن متعلقہ میٹنگ میں کوئی بھی سابقہ ممبر حاضر نہ ہونےکی وجہ سےمیٹنگ منسوخ کرنے کے بعد میڈیا کو جانکاری دی گئی ۔
اخباری رپورٹ کے مطابق قاضی گلی کی سلطانیہ مسجد 2001 سے 2004تک انتظامیہ کمیٹی کی نگرانی میں تھی ، 2004کو کمیٹی کی میعاد ختم ہوگئی ، لیکن اس کے بعد بھی سابقہ صدر ہی خود کردہ صدر بن کر 2014تک عہدہ پر بحال رہے۔ اس بات کا پتہ مسجد کے دستاویزات سے بھی چلاہے۔ میڈیا میں مسجد انتظامیہ آفسر عبدالمولگند کے حوالے سےبتایا گیا ہے کہ انتظامیہ آفیسر کو نامزد کئے جانے کے چند دنوں میں ہی صدر کے تعمیراتی اکاؤنٹ میں موجود 3لاکھ روپئے منتقل کئے گئے ہیں۔ ان سب حالات کے پیش نظر مسجد کے عطیہ کنندگان نے سابقہ کمیٹی پر دباؤ ڈالا کہ وہ حساب کتاب دیں۔ عبدالمولگند نے میڈیا کو بتایا کہ 8اگست 2015کو جب اُن کو انتظامیہ آفیسر کے طور پر تقرر کیا گیا، تواُنہیں اس وقت سے آج تک کاکوئی حساب کتاب نہیں دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ حساب کتاب کو صحیح کرنا مشکل ہورہاہے۔ کنڑا اخبار کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرنے کے دوران شہر کے معزز حضرات غوث خان، محمد حنیف خان، اشفاق چوٹی ، عبدالعزیز رحمن، زین الدین پٹھان وغیرہ موجود تھے۔